بنگلورو31؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ نیوز) منڈیا لوک سبھا حلقے میں کانگریس جے ڈی ایس متحد امیدوار ایل آر شیورامے گوڈا کا مقابلہ اب اس حلقے میں کسی سے نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے، کیونکہ اس حلقے سے بی جے پی نے جس امیدوار کو میدان میں اتارا ہے ، ان کی مہم کا مکمل طور پر سبوتاژ کردیاگیاہے۔
بتایاجاتاہے کہ منڈیا حلقے میں انتخابی مہم کی نگرانی کا ذمہ بی جے پی کے وکلیگا لیڈر آر اشوک کو دیا گیاتھا، لیکن آر اشوک نے انتخابی کمان سنبھالنے کے بعد حلقے سے خود کو کچھ اس طرح غائب کرلیا کہ اشوک کی اس حرکت پر سرکردہ بی جے پی قائدین کی آنکھیں لال پیلی ہوگئیں۔ قدیم میسور علاقہ چونکہ جے ڈی ایس کا گڑھ تصور کیا جاتاہے، بی جے پی کو توقع تھی کہ اس ضمنی انتخاب کے ذریعے وہ منڈیا میں اپنا سیاسی غلبہ ثابت کرسکیں۔ لیکن ایسے مرحلے میں جبکہ ریاست کے تینو ں لوک سبھا حلقوں میں انتخابی مہم شباب پر ہے، بی جے پی کی طرف سے منڈیا میں کوئی مہم نہیں چل رہی ہے۔
منڈیاحلقہ جہاں وکلیگا فرقے کی سب سے زیادہ آبادی ہے، یہ طبقہ سابق وزیراعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا کو اپنا رہنما تصور کرتا ہے۔قدیم میسور علاقے میں اس طبقے کا جو بھی فیصلہ ہوگا اسی روش پر یہاں کی سیاست بھی طے ہوتی ہے، پچھلے اسمبلی انتخابات میں پورے منڈیا حلقے پر جے ڈی ایس کا قبضہ رہا۔اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بار جے ڈی ایس اس حلقے سے پارلیمان میں اپنی نمائندگی برقرار رکھنے کے لئے ایل آر شیورامے گوڈا کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی کی طرف سے ڈاکٹر سدرامیا کو میدان میں اتارا گیا ہے ، اور انتخابی مہم چلانے کی ذمے داری آر اشوک کے ذمے سونپی گئی ، لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ انتخابی مہم میں آر اشوک کی موجودگی برائے نام ہوگئی ہے، ضمنی انتخاب کی کسی بھی سرگرمی کو اشوک نے سنجیدگی سے نہیں لیا ہے، اشوک کے اس رویہ کے خلاف منڈیا ضلع کے بی جے پی رہنماؤں نے ریاستی بی جے پی قیادت سے شکایت کی تو اس پر کارروائی کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ یڈیورپانے بی جے پی اعلیٰ کمان کو اس کی اطلاع دی ہے۔الزام لگایا گیا ہے کہ منڈیا لوک سبھا حلقے کے ذمہ دار کے طور پر آر اشوک پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ ان پر یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ کمار سوامی اور دیوے گوڈا خاندان سے اپنے قریبی تعلقات کی آڑ میں انہوں نے اس حلقے میں بی جے پی امیدوار کی کامیابی کے امکانات سے سودا کرلیا ہے۔ حال ہی میں وزیراعلیٰ کمار سوامی کی طرف سے طلب کی گئی میٹنگ میں آر اشوک کی موجودگی کو اس ساز باز کا ثبوت مانا جارہاہے۔ اشوک کی مبینہ سرگرمیوں اور پارٹی کی انتخابی مہم سے خود کو دور رکھنے کی کوششوں کے بارے میں جب یڈیورپا کو مطلع کیاگیا تو انہوں نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے۔ اور متنبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی۔ بی جے پی قیادت کو توقع تھی کہ وکلیگا فرقے سے وابستہ آر اشوک کو اگر حلقے میں انتخابی مہم کی ذمہ داری سونپی جائے تو وہ حلقے میں بی جے پی کے وجود کو مستحکم کرنے کے لئے کچھ کرسکتے ہیں، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا، بلکہ اشوک کی موجودگی میں ہی بی جے پی کی انتخابی مہم برائے نام بن کر رہ گئی ہے۔